Recently Finished
Live Cricket
Upcoming Matches
No live scores available
View All Matches

پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر محمد عامر کو 2011 کے دورہ انگلینڈ پر اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے باعث پانچ سال انٹرنیشنل کرکٹ سے دور رہنا پڑا تھا۔ سزا مکمل ہونے کے بعد عامر نے 2016 میں قومی ٹیم میں واپسی کی مگر کم بیک کے بعد محمد عامر کی ٹیسٹ فارمیٹ میں کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ایک ہی سوال اٹھتا ہے کہ کیا انھیں ٹیسٹ ٹیم کا حصہ ہونا چاہیے؟ محمد عامر کے کم بیک کے بعد ان کی ٹیسٹ پرفارمنس پر نظر ڈالی جائے تو انھوں نے کل 22 ٹیسٹ میچز کھیلے جس میں عامر 68 وکٹیں لینے میں کامیاب ہوئے۔
آسٹریلیا کے خلاف انہی کی سرزمین پر 17۔2016 سیریز میں عامر نے تین ٹیسٹ میچ کھیلے جس میں 61.60 کی اوسط سے انھوں نے صرف تین وکٹیں لیں۔ کم بیک کے بعد انگلینڈ کے خلاف بھی عامر کی 6 ٹیسٹ میچوں میں کارکردگی کچھ خاص نہیں رہی اور انھوں نے صرف 16 وکٹیں اپنے نام کیں۔ 2016 میں نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں عامر نے 3 ٹیسٹ میچوں میں 12 وکٹیں لیں اور سری لنکا جیسی کمزور ٹیم کے خلاف بھی عامر اپنی بولنگ کے جوہر نہ دکھا سکے اور 2 ٹیسٹ میچوں میں 164 کی اوسط سے محض ایک وکٹ لینے میں کامیاب ہوئے تھے۔
ویسٹ انڈیز کے خلاف ان کی کارکردگی دیکھی جائے تو عامر نے پانچ ٹیسٹ میچز میں 19 شکار کیے۔ جنوبی افریقہ کی تیز پچز پر بھی عامر کوئی کمال نہ دکھا سکے اور انھوں نے 3 ٹیسٹ میچوں میں 12 وکٹیں حاصل کیں۔ محمد عامر نے آئرلینڈ کے خلاف بھی ایک ٹیسٹ میچ کھیلا تھا جہاں انھوں نے پانچ کھلاڑی آؤٹ کیے تھے۔ کم بیک کے بعد 40 اننگز میں فاسٹ بولر نے صرف ایک مرتبہ 5 وکٹیں حاصل کی ہیں۔