Recently Finished
Live Cricket
Upcoming Matches
View All Matches

کرکٹ میں ویسے تو نسل پرستی کے کئی واقعات ہوئے مگر چند رپورٹ ہونے کے بعد تنازعے میں تبدیل ہوگئے۔ ورلڈکپ 1985 میں کینیا نے ویسٹ انڈیز کی مضبوط ٹیم کو ڈھیر کردیا۔۔ شکست کے بعد برائن لارا کینیا کے ڈریسنگ روم پہنچ گئے اور کہا کہ ہمیں سیاہ فام ٹیم سے ہارنے کا کوئی دکھ نہیں۔۔ بعد میں لارا کو اپنے بیان پر معافی مانگنا پڑی۔ 2003ء میں آسٹریلیا اور سری لنکا کے درمیان برسبین کے ون ڈے کے دوران ڈیرن لیمن نے سری لنکن کھلاڑیوں پر نسلی جملے کسے اور انھیں پانچ میچز کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔۔دو ہزار تین میں ایڈم گلکرسٹ نے راشد لطیف پر نسلی تعصب پر مبنی جملے کسنے کا الزام لگایا مگر ثابت نہ کرسکے۔ اور راشد لطیف بے قصور قرار پائے۔
دو ہزار سات میں سڈنی ٹیسٹ کے دوران آسٹریلوی آل راؤنڈر اینڈریو سائمنڈز نے الزام لگایا کہ ہربھجن سنگھ نے انھیں بندر کہا۔۔ آئی سی سی نے تحقیقات کے بعد برہھجن پر تین میچز کی پابندی عائد کردی۔۔ جو بعد میں جرمانے میں تبدیل ہوگئی۔دو ہزار سات میں ہاشم آملہ نے کمارا سنگاکارا کا کیچ لیا تو کمنٹیٹر ڈین جونز نے کہا کہ دہشت گرد نے ایک اور وکٹ حاصل کرلی۔۔ جس پر انھیں کمنٹری سے ہاتھ دھونا پڑے۔دو ہزار اٹھارہ میں بھارتی تماشائیوں کی جانب سے عمران طاہر پر نسلی جملے کسے گئے جس پر سیکورٹی حکام نے ایکشن لیا۔۔ اور 2007 میں جنوبی افریقا کے ہرشل گبز کو پاکستانی شائقین پر نسل پرستانہ جملے جڑنے پر ایک ون ڈے ایک ٹیسٹ اور ایک ٹی ٹوئنٹی کے معطل کیا گیا تھا اسی اور نوے کی دہائی میں بھی کرکٹ میں نسل پرستی کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے۔۔