Recently Finished
Live Cricket
Upcoming Matches
No live scores available
View All Matches

پاکستان ٹیم میں آل راؤنڈر کے طور پر جگہ بنانے والے فہیم اشرف کی ناقص کارکردگی پر شائقین کرکٹ کا پارہ چڑھ گیا ہے۔ ورلڈکپ سے قبل فہیم اشرف کو ٹیم سے نکالنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے جبکہ کچھ لوگ انھیں "رونگ نمبر" قرار دے رہے ہیں۔ فہیم اشرف نے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2017 میں سری لنکا کے خلاف اپنا ون ڈے ڈیبیو کیا۔
اب تک وہ پاکستان کی جانب سے 20 ایک روزہ میچز کھیل چکے ہیں جبکہ انھوں نے پاکستان کو ایک میچ بھی اپنی بیٹنگ صلاحیتوں سے نہیں جتوایا مگر وہ خود کو آل راؤنڈر کہلوانے کے خواہشمند ہیں۔ ون ڈے فارمیٹ میں ان کی بیٹنگ اوسط محض 13.27 ہے جبکہ بولنگ میں فہیم اشرف نے 31.57 کی بھاری اوسط سے صرف 19 وکٹیں حاصل کیں۔
ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں ان کی کارکردگی پر بات کریں تو 25 میچوں میں ان کی 24 وکٹیں ہیں اور بیٹنگ میں صرف 108 رنز بنائے ہیں۔ محدود اوورز کی کرکٹ میں اس قسم کی پرفارمنس کے باوجود فہیم اشرف کو ٹیسٹ کیپ بھی تھما دی گئی جہاں چار میچوں میں ان کی بیٹنگ اوسط 23 ہے جبکہ بولنگ میں انھوں نے 11 وکٹیں حاصل کیں۔
شائقین کرکٹ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کب تک ایسا آل راؤنڈر ٹیم میں کھیلتا رہے گا؟ فہیم اشرف کب بین اسٹوکس، معین علی، شکیب الحسن، محمد نبی، کیرون پولارڈ یا کولن ڈی گرانڈہوم جیسے آل راؤنڈر بنیں گے؟ فہیم اشرف کو اپنے اوپر سے "رونگ نمبر" کا ٹیگ ہٹانے کیلئے مختصر عرصے میں غیرمعمولی کارکردگی دکھانا ہو گی ورنہ یہ ٹیگ ہمیشہ کیلئے ان کے نام کے ساتھ لگ جائے گا۔