Recently Finished
Live Cricket
Upcoming Matches
No live scores available
View All Matches

پاکستان کرکٹ ٹیم ورلڈکپ مشن کیلئے انگلینڈ پہنچ چکی ہے جہاں وہ پہلے انگلینڈ کیخلاف سیریز کھیلیں گے اور پھر شاہینوں کا کڑا امتحان شروع ہو گا۔ قومی ٹیم اب تک کھیلے جانے والے تمام 11 ورلڈکپ میں شرکت کر چکی ہے۔ ورلڈکپ 1975 میں پہلی مرتبہ انگلینڈ کی سرزمین پر کھیلا گیا تھا۔ اگر انفرادی طور پر پاکستان کی ورلڈکپ میں کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو 1975 میں کھیلے گئے پہلے عالمی کپ میں پاکستان 3 میچز کھیل کر صرف ایک جیتا جبکہ دو میں شکست ہوئی اور ابتدائی راؤنڈ سے ہی باہر ہو گیا۔
1979 کے ورلڈکپ میں پاکستان کو سیمی فائنل میں ویسٹ انڈیز سے شکست ہوئی۔ 1983 کے عالمی کپ میں پاکستان نے ایک مرتبہ پھر سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی اور قومی ٹیم کو ایک مرتبہ پھر ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں شکست ملی۔ 1983 میں کھیلے گئے میگا ایونٹ میں پاکستان نے مسلسل تیسری مرتبہ سیمی فائنل میں جگہ بنائی اور اس مرتبہ آسٹریلیا نے شاہینوں کو شکست سے دوچار کیا۔ 1992 میں پہلی مرتبہ پاکستان عمران خان کی قیادت میں ورلڈکپ کا ٹائٹل جیتنے میں کامیاب ہوا۔
1996 میں کھیلے گئے عالمی کپ میں پاکستان کو کوارٹر فائنل میں بھارت کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 1999 کے ورلڈکپ میں پاکستان کو انگلینڈ کی سرزمین پر فائنل معرکے میں آسٹریلیا سے شکست ہوئی جبکہ 2003 کے عالمی کپ میں پاکستان پہلے ہی راؤنڈ میں ایونٹ سے باہر ہو گیا تھا اور 2007 میں کھیلے گئے میگا ایونٹ میں بھی قومی ٹیم پہلے راؤنڈ سے آگے نہیں بڑھ سکی تھی۔ 2011 کے ورلڈکپ میں پاکستان کو سیمی فائنل میں بھارت کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی جبکہ 2015 کے عالمی کپ میں پاکستان نے کوارٹر فائنل میں جگہ بنائی مگر کینگروز نے پاکستان کو آگے بڑھنے نہ دیا۔

ورلڈکپ میں پاکستان کے کامیاب کپتان:
ورلڈکپ کی تاریخ میں پاکستان کے سب سے کامیاب کپتان کا ذکر ک��ا جائے تو صرف ایک ہی نام ذہن میں آتا ہے اور وہ عمران خان ہے۔ عمران خان نے عالمی کپ کے 22 میچوں میں پاکستان کی قیادت کی جس میں سے قومی ٹیم نے 14 جیتے جبکہ 8 میں شکست ہوئی۔ وسیم اکرم عالمی کپ کی تاریخ میں پاکستان کے دوسرے کامیاب ترین کپتان رہے۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے 15 میچوں میں سے 10 جیتے جبکہ 5 میں شکست کا مزہ چکھا۔ 2011 کے میگا ایونٹ میں شاہد آفریدی کی قیادت میں پاکستان کو آٹھ میں سے 6 میچوں میں فتح اور 2 میں شکست ملی۔ مصباح الحق، وقار یونس، آصف اقبال اور انضمام الحق بھی ورلڈکپ میں قومی ٹیم کی قیادت کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ جاوید میانداد، ماجد خان اور عامر سہیل کو بھی عالمی کپ میں پاکستان کی قیادت کا اعزاز حاصل ہے۔

ورلڈکپ میں پاکستان کی فتوحات:
دوسری جانب ورلڈکپ میں پاکستان کی فتوحات کو دیکھا جائے تو قومی ٹیم کا 11 ورلڈکپ میں ریکارڈ خاصہ بہتر ہے۔ میگا ایونٹ سے قبل قومی ٹیم کی کارکردگی جو بھی ہو مگر ورلڈکپ کیلئے میدان میں اترتے ہی پاکستان ٹیم کی کارکردگی بالکل تبدیل ہو جاتی ہے۔ ورلڈکپ میں پاکستان نے اب تک 71 میچ کھیلے جس میں سے 40 میچوں میں شاہینوں کو کامیابی ملی اور 29 میچوں میں شکست ہوئی۔ عالمی کپ میں سب سے زیادہ فتوحات کے مطابق پاکستان کا ریکارڈ دیکھا جائے تو پاکستان پانچویں کامیاب ٹیم ہے۔ ورلڈکپ کی تاریخ میں کامیاب ترین ٹیم آسٹریلیا کی ہے جس نے 84 میچ کھیل کر 62 میں فتح سمیٹی۔

ورلڈکپ میں پاکستانی بیٹسمینوں اور بولرز کی کارکردگی:
جاوید میانداد ورلڈکپ کی تاریخ میں پاکستان کے کامیاب ترین بیٹسمین ہیں۔ جاوید میانداد نے ورلڈکپ کی 30 اننگز میں 1,083 رنز اسکور کیے جس میں 1 سنچری اور 8 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ جاوید میانداد پاکستان کے واحد بیٹسمین ہیں جنہوں نے ورلڈکپ میں ایک ہزار سے زائد رنز بنائے۔ ان کے بعد سعید انور میگا ایونٹ میں پاکستان کے دوسرے بہترین بیٹسمین رہے ہیں۔ 21 اننگز میں انہوں نے 915 رنز بنائے۔
عالمی کپ میں پاکستان کے سب سے کامیاب بولر وسیم اکرم رہے ہیں جنہوں نے 38 میچوں میں 55 وکٹیں حاصل کیں۔ عمران خان 28 میچوں میں 34 وکٹیں لے کر پاکستان کے دوسرے کامیاب بولر ہیں۔ شعیب اختر کی 19 میچوں میں 30 وکٹیں ہیں اور ورلڈکپ میں وہ پاکستان کے تیسرے کامیاب ترین بولر ہیں۔ شاہد آفریدی 27 میچوں میں 30 اور مشتاق احمد 15 میچوں میں 26 وکٹوں کے ساتھ بالترتیب چوتھے اور پانچویں نمبر پر موجود ہیں۔