Recently Finished
Live Cricket
Upcoming Matches
No live scores available
View All Matches

پاکستان کرکٹ بورڈ نے نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر کا اعلان کر دیا۔ پی سی بی کے آئندہ ڈومیسٹک سیزن کی تقریب لاہور میں سجی جس میں چیف ایگزیکٹو آفیسر وسیم خان گرافکس کے ذریعے پورا ڈومیسٹک اسٹرکچر منظر عام پر لائے۔ تقریب رونمائی میں چیئرمین پی سی بی احسان مانی اور ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ ہارون رشید نے بھی شرکت کی۔
نئے اسٹرکچر کے مطابق 16 ریجنز کو 6 ایسوسی ایشنز میں ضم کر دیا گیا ہے۔ نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر کو 3 مختلف درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے درجے میں 90 سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز اسکول اور کلب کرکٹ مقابلوں کا انعقاد کریں گی۔ دوسرے درجے میں سٹی کرکٹ ٹیمیں انٹرا سٹی مقابلوں میں شرکت کریں گی۔
تیسرے درجے میں 6 ایسوسی ایشنز کی ٹیمیں پی سی بی کے زیراہتمام ٹورنامنٹس میں شرکت کریں گی۔ ہر کرکٹ ایسوسی ایشن 32 کھلاڑیوں کو ایک سال کے لیے سنٹرل کنٹریکٹ دے گی۔ یہ کھلاڑی پی سی بی کے سنٹرل کنٹریکٹ کا حصہ نہیں ہوں گے۔ ایسوسی ایشن 32 کھلاڑیوں کے علاوہ کسی بھی کھلاڑی کو فی میچ معاوضہ دے کر میچ کھیلا سکتی ہے۔
ڈومیسٹک کرکٹ میں سنٹرل کنٹریکٹ رکھنے والے ہر کھلاڑی کو ماہانہ 50 ہزار روپے معاوضہ ملے گا جبکہ میچ فیس اور دیگر واجبات کی مد میں کرکٹرز مجموعی طور پر سالانہ 20 سے 25 لاکھ کما سکیں گے۔ قائداعظم ٹرافی کے فرسٹ کلاس میچز 14 ستمبر سے 8 اکتوبر اور 28 اکتوبر سے 13 دسمبر تک جاری رہیں گے۔
قومی انڈر-19 کرکٹ ٹورنامنٹ یکم اکتوبر سے 12 نومبر تک کھیلا جائے گا۔ قائداعظم ٹرافی سیکنڈ الیون کے میچز 14 ستمبر سے 10 اکتوبر اور 28 اکتوبر سے 29 نومبر تک ہوں گے۔ ایونٹ میں کل 31 میچز ہوں گے۔ قومی ٹی ٹوئنٹی کپ 13 سے 24 اکتوبر تک کھیلا جائے گا۔
پاکستان ون ڈے کپ کے میچز 29 مارچ سے 24 اپریل 2020 تک جاری رہیں گے اور اس میں بھی 31 میچز ہوں گے۔ ڈومیسٹک سیزن 20-2019 کے تمام ٹورنامنٹس میں "کوکابورا" کی گیند کا استعمال کیا جائے گا۔
چیئرمین پی سی بی احسان مانی کا کہنا ہے کہ کرکٹ کے معیار میں بہتری لانا پی سی بی کی اولین ترجیح ہے، نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر کے نفاذ سے قومی کھلاڑیوں کی کارکردگی میں تسلسل آئے گا۔
چیف ایگزیکٹو آفیسر وسیم خان نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ٹیسٹ کرکٹ کی اہمیت پر یقین رکھتا ہے، یہ اسٹرکچر ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے لیے پاکستان کو بہترین ٹیم کے انتخاب میں مدد دے گا، مجموعی طور پر 450 کھلاڑی، کوچز اور دیگر اسٹاف ممبران اس ڈومیسٹک اسٹرکچر کا حصہ ہوں گے۔