Recently Finished
Live Cricket
Upcoming Matches
No live scores available
View All Matches

کرکٹ کی دلدادہ خواتین امپائرنگ کے شعبے میں قسمت آزما رہی ہیں۔ 37 سالہ عافیہ امین کا شمار بھی ان 9 خواتین میں ہوتا ہے جو پاکستان کرکٹ بورڈ کے امپائرنگ پینل میں شامل ہیں۔ عافیہ امین کو کرکٹ میں دلچسپی اسکول کے دوران پیدا ہوئی۔ لاہور سے تعلق رکھنے والی عافیہ امین نے اسکول میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنا شروع کی تاہم خاندانی رکاوٹوں کے باعث وہ اپنے شوق کی تکمیل میں ناکام رہیں۔
عافیہ امین کا ماننا ہے کہ خواتین کے شوق کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ معاشرتی حالات ہوتے ہیں، وقت گزر گیا مگر شوق قائم رہا۔ عافیہ امین کی شادی پی سی بی امپائرنگ پینل میں شامل عدنان رشید سے ہو گئی۔ شوہر کو خواتین کرکٹ ٹیم کے میچز سپروائز کرتے دیکھا تو عافیہ امین نے ویمن امپائر بننے کی ٹھان لی۔ اس بار معاشرے کا مقابلہ کرنے کے لیے عافیہ امین کو اپنے شوہر کا سہارا تھا۔
2006 میں عافیہ نے پی سی بی ویمن ونگ کی جانب سے پہلا میچ سپروائز کیا۔ وہ 13 سال میں قومی خواتین کرکٹ کے 150 سے زائد میچ سپروائز کر چکی ہیں۔ عافیہ امین کا کہنا ہے کہ 2005 میں میرے شوہر نے بتایا کہ پاکستان میں ویمن امپائرز نہ ہونے کے باعث مینز امپائر کو ہی ویمن میچز سپروائز کرنے پڑتے ہیں، اسی دن اپنے شوہر سے وعدہ کر لیا تھا کہ آئندہ سال ویمن میچز میں سپروائز کروں گی۔
عافیہ امین بطور ویمن امپائر انڈر-16 مینز کرکٹ کے میچز بھی سپروائز کر چکی ہیں۔ وہ علیم ڈار کی طرح امپائرنگ کے شعبے میں پاکستان کا نام روشن کرنا چاہتی ہیں۔ عافیہ امین آئی سی سی ویمن ورلڈکپ کے میچز سپروائز کرنے والی پہلی پاکستانی ویمن امپائر بننا چاہتی ہیں۔ بطور میچ آفیشل زیادہ سے زیادہ کامیابیاں سمیٹنا عافیہ امین کا عزم ہے۔