Recently Finished
Live Cricket
Upcoming Matches
View All Matches

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے سرکاری اسپورٹس چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔ شعیب اختر نے کہا کہ ٹیم کے دو، تین کھلاڑیوں سے میرا اس لیے جھگڑا ہوتا تھا کیونکہ وہ لسانیت کی بات کرتے تھے، کراچی اور پشاور کی بات کرتے تھے تو مجھے بہت غصہ آتا تھا۔
سابق فاسٹ باؤلر نے انکشاف کیا کہ ٹیم کے بہت سے کھلاڑی دانش کنیریا کو ان کے مذہب کی وجہ سے کھیلانے کے حق میں نہیں تھے، انہیں اچھی پرفارمنس پر کبھی داد نہیں دی گئی اور ان کو ہمیشہ بےعزت کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ کھلاڑی دانش کنیریا کے ساتھ بیٹھ کر کھانا بھی نہیں کھاتے تھے۔
دانش کنیریا نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ شعیب اختر نے جو بولا ہے وہ سچ ہے، مجھ میں یہ سب بولنے کی ہمت نہیں تھی لیکن اب میں بولوں گا، میں ان تمام کھلاڑیوں کا شکرگزار ہوں جنہوں نے اس وقت مجھے سپورٹ کیا۔ انہوں نے لوگوں سے درخواست کی کہ معاملے کو سیاسی مت بنایا جائے۔
دانش کنیریا دوسرے ہندو کرکٹر ہیں جنہوں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کی جبکہ ان سے پہلے 1980 کی دہائی میں انیل دلپت بھی بطور وکٹ کیپر پاکستان کی طرف سے کھیل چکے ہیں۔ دانش کنیریا نے پاکستان کی طرف سے 61 ٹیسٹ میچوں میں 261 اور 18 ون ڈے میچوں میں 15 وکٹیں حاصل کیں۔
یاد رہے دانش کنیریا کا کرکٹ کیریئر اس وقت اختتام کو پہنچا جب انگلیںڈ کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے 2012 میں اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے پر انہیں تاحیات پابندی کی سزا سنائی۔