Recently Finished
Live Cricket
Upcoming Matches
No live scores available
View All Matches

سابق کرکٹر محمد یوسف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک پر ایک تصویر اپلوڈ کی جس میں ان کے ساتھ دو افراد کو دیکھا جا سکتا ہے۔ محمد یوسف نے لکھا کہ مجھے کرکٹ کلب میں داخلہ اس شرط پر ملا تھا کہ میں پچ اور گراؤنڈ پر جھاڑوں لگایا کروں جبکہ سینیئر کھلاڑیوں کے لیے نیٹ لگانا بھی میری ذمہ داری تھی۔
سابق کپتان نے بتایا کہ اس تصویر میں جو شخص ہے ان کا نام ظہیر ہے، وہ ہمارے کلب کے کپتان تھے، انہوں نے مینجمنٹ سے لڑ کر مجھے کھیلانے کی کوشش کی لیکن جب مینجمنٹ نہیں مانی تو انہوں نے میرے لیے خود کو ڈراپ کر دیا اور اپنی کٹ بھی دی۔
محمد یوسف نے مزید لکھا کہ میں ریلوے کالونی میں درزی کی دکان پر کام کرتا تھا، اس دن میں نے کام سے چھٹی کر لی، میں نے اس میچ میں سنچری بھی اسکور کی تھی اور اس کے بعد کبھی ٹیم سے ڈراپ نہیں ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ ظہیر کینسر کے مرض میں مبتلا ہو گیا تھا لیکن اب مکمل صحتیاب ہو کر کام پر واپس آ گیا ہے، اس نے مجھ فون پر یہ خوشخبری سنائی تو میں ان سے ملنے چلا آیا اور اس نے مجھے کہا کہ تو نے میرے علاج پر لاکھوں خرچ کر دیئے اس لیے میرے بچے زندگی بھر تیرے غلام رہیں گے۔
محمد یوسف نے لکھا کہ میں نے اسے جواب دیا کہ ظہیر بھائی میں آپ جتنا امیر آج تک نہیں بن سکا کیونکہ آپ نے میری مدد اس وقت کی جب آپ کے پاس کچھ نہیں تھا اور میں نے آپ کی مدد اس وقت کی جب میرے پاس سب کچھ تھا۔