Recently Finished
Live Cricket
Upcoming Matches
No live scores available
View All Matches

کرکٹ میں ہر اچھے کھلاڑی کا دوسرے اچھے کھلاڑی کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے۔ دور حاضر کی کرکٹ میں ہر ریکارڈ کے بعد بابر اعظم اور ویرات کوہلی کا موازنہ کیا جاتا ہے مگر آج ہم پاکستان اور بھارت کے دو سابق اوپنرز کا موازنہ کر رہے ہیں جنھوں نے شاندار پررفارمنس سے اپنی اپنی ٹیموں کو بے تحاشہ کامیابیاں دلائیں۔
بھارت کے سورو گنگولی اور پاکستان کے سعید انور اپنے دور کے خوبصورت اور دلکش شاٹس کھیلنے والے اوپنرز تھے۔ 1989 میں پاکستان کے لیے ڈیبیو کرنے والے سعید انور نے 247 ایک روزہ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی اور 39.21 کی اوسط سے 8824 رنز اسکور کیے جبکہ ان کا اسٹرائیک ریٹ 80.67 کا رہا۔
انھوں نے قومی ٹیم کے لیے 20 سنچریاں اور 43 نصف سنچریاں بھی اسکور کیں۔ ان کے مقابلے میں سورو گنگولی کی بات کی جائے تو انھوں نے 311 ایک روزہ میچز میں بھارت کی نمائندگی کرتے ہوئے 41.02 کی اوسط سے 11363 رنز اسکور کیے لیکن ان کا اسٹرائیک ریٹ 73.70 کا تھا۔ 22 سنچریاں اور 72 نصف سنچریاں ان کے کیریئر کو 4 چاند لگا رہی ہیں۔
اگر سعید انور کا بھارت کے خلاف ریکارڈ دیکھا جائے تو وہ شاندار ہے۔ انھوں نے روایتی حریف کے خلاف 50 میچز کھیلے اور 43.52 کی اوسط سے 2002 رنز اسکور کیے جس میں 4 دھواں دھار سنچریاں بھی شامل ہیں۔ اسٹائلش اوپنر کا ون ڈے کیریئر میں بہترین اسکور بھی بھارت کے خلاف ہے۔ سعید انور نے 1997 میں چنائی کے میدان پر 194 رنز کی اننگز کھیلی جو کئی سال تک ون ڈے کرکٹ کی سب سے بڑی انفرادی اننگز رہی۔
سورو گنگولی کے پاکستان کے خلاف ون ڈے ریکارڈ پر نظر ڈالیں تو وہ اتنا خاص نہیں ہے۔ انھوں نے پاکستان کے خلاف 53 میچز میں 35 کی اوسط سے 1652 رنز بنائے جس میں دو سنچریاں بھی شامل ہیں۔
اگر ٹیسٹ کرکٹ کی بات کی جائے تو زیادہ میچز کھیلنے کی وجہ سے سورو گنگولی کو اس فارمیٹ میں برتری حاصل ہے۔ انہوں نے 113 ٹیسٹ میچز میں 42.17 کی اوسط سے بھارت کے لیے 7212 رنز بنائے جس میں 16 سنچریاں قابل ذکر ہیں۔ سعید انور نے پاکستان کی جانب سے صرف 55 ٹیسٹ میچز کھیلے اور 45.52 کی اوسط سے 4052 رنز بنائے۔ انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر میں 11 سنچریاں اور 25 نصف سنچریاں بھی اسکور کیں۔