Recently Finished
Live Cricket
Upcoming Matches
No live scores available
View All Matches

کرکٹ کی تاریخ کے بارے میں جب بھی گفتگو ہو گی تو اس میں پاکستان کے سابق کپتان عمران خان اور ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان سر ویو رچرڈز کا ذکر لازمی ہو گا۔ عمران خان نے 263 بین الاقوامی میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی جبکہ سر ویو رچرڈز 308 مرتبہ ویسٹ انڈیز کی جرسی پہن کر میدان میں اترے۔
عمران خان اور ویو رچرڈز کے درمیان موازنہ کرنا کسی مشکل سے کم نہیں کیونکہ دونوں کھلاڑی جب بھی میچ کھیلنے کے لیے کرکٹ گراؤنڈ میں قدم رکھتے تو شاندار انداز میں اپنی ٹیم کی قیادت کرتے اور میچ کی آخری گیند تک پوری جان لگاتے۔
ورلڈکپ مقابلوں میں ویو رچرڈز کا ریکارڈ دیکھا جائے تو انہوں نے 23 میچوں میں ویسٹ انڈیز کی نمائندگی کرتے ہوئے 63.31 کی شاندار اوسط سے 1013 رنز اسکور کیے۔ ویو رچرڈز نے ورلڈکپ میچز میں تین سنچریاں بھی اسکور کیں جبکہ باؤلنگ کرتے ہوئے انہوں نے 10 کھلاڑیوں کو پویلین واپسی کا راستہ دکھایا۔
ان کے مقابلے میں اگر عمران خان کے ورلڈکپ ریکارڈ پر نظر ڈالیں تو انہوں نے میگا ایونٹس میں پاکستان کی جانب سے 28 میچز کھیلے اور 35 کی اوسط کے ساتھ 666 رنز بنائے جس میں ایک سنچری بھی شامل ہے۔ عمران خان نے باؤلنگ کے شعبے میں ویو رچرڈز سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 19.26 کی اوسط سے 34 شکار کیے۔
ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان نے مختلف ٹورنامنٹس کے 18 فائنل میچز میں حصہ لیا اور 55.73 کی اوسط کے ساتھ 836 رنز بنائے جبکہ ان کا بہترین اسکور 138 رہا۔ ان فائنل میچز میں انہوں نے باؤلنگ کرتے ہوئے 5 وکٹیں بھی حاصل کیں۔
دوسری طرف مختلف ایونٹس کے 10 فائنل میچز کھیلنے والے عمران خان کی بیٹنگ اوسط صرف 21.44 کی رہی جس میں بہتری اس وقت آئی جب انہوں نے ورلڈکپ 1992 کے فائنل میں انگلینڈ کے خلاف نصف سنچری بنائی۔ سابق کپتان کے باؤلنگ ریکارڈ کی بات کریں تو انہوں نے 10 میچوں میں 10 کھلاڑیوں کو ہی پویلین واپس بھیجا۔