Recently Finished
Live Cricket
Upcoming Matches
View All Matches

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے موجودہ اور ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کے لیے آن لائن سیشنز کا سلسلہ جاری ہے۔ آن لائن سیشن کے دوسرے روز ماضی کے عظیم فاسٹ بولر وسیم اکرم نے فاسٹ بولرز کو کیریئر میں کامیابی کے گر سکھائے۔
اس موقع پر وسیم اکرم نے کہا کہ ایک فاسٹ بولر کے لیے ڈسپلن اور خوداعتمادی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ کیریئر کے مشکل وقت میں خوف کو پس پشت ڈال کر آگے بڑھنا ہی کامیابی ہے۔
وسیم اکرم نے ماضی کی کہانیاں سناتے ہوئے فاسٹ بولرز کو بتایا کہ وہ کبھی بھی کسی خاص کارکردگی پر مطمئن نہیں ہوتے تھے، ایک اچھے کھلاڑی کیلئے ہر دن نیا دن ہوتا ہے اور اسے ہر دن کیلئے ایک نئی حکمت عملی تیار کرنا ہوتی ہے۔
سوئنگ کے سلطان نے کہا کہ طویل طرز کی کرکٹ ہی اصل کرکٹ ہے، عظیم کھلاڑی بننے کیلئے یہاں کامیابی حاصل کرنا ضروری ہے۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر نے کہا کہ کرکٹ اعداد و شمار کا کھیل ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اپنے کیریئر کے دوران اہداف ترتیب دیا کرتے تھے اور سب سے بڑا ہدف یہی تھا کہ کیا کرکٹ چھوڑنے کے بعد انہیں یاد کیا جائے گا یا کیا مبصرین انہیں آل ٹائم ٹیسٹ الیون میں شامل کریں گے؟
شاہین شاہ آفریدی کو ٹو ڈبلیوز کی کامیابی کی کہانی سناتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا کہ فاسٹ بولرز میں مثبت رقابت ضروری ہے، اس سے کھیل میں نکھار آتا ہے، میں وقار یونس کے رن اپ سے بہت متاثر تھا، ان کی رفتار سے دنیائے کرکٹ کے بڑے بڑے بیٹسمین ڈرتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ وقار یونس اور میں نے بڑی بڑی ٹیموں کے خلاف میچز کا پانسہ ایک دوسرے کی قابلیت پر اعتماد کر کے ہی پلٹہ تھا۔ وہاب ریاض کے سوال پر وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ میں مشکل وقت میں خود کو چیلنج کرتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ فاسٹ بولر کو میچ میں بدلتی صورتحال کے اعتبار سے حکمت عملی تبدیل کرنی چاہیے، اچھا فاسٹ بولر وہی ہے جو اپنی صلاحیتوں پر اعتبار کرتے ہوئے اپنی فیلڈنگ خود سیٹ کرے۔
اس موقع پر وقار یونس نے وسیم اکرم کے ساتھ گزارے گئے لمحات کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے کھلاڑیوں کو واضح کیا کہ وسیم اکرم کی کامیابی کا راز ان کا ڈسپلن اور اپنے اہداف کی تیاری کے لیے سخت محنت کرنا تھی۔