Recently Finished
Live Cricket
Upcoming Matches
View All Matches

کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے 20 کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ دینے کا اعلان کیا گیا ہے جس میں عثمان خواجہ کا نام شامل نہیں ہے۔ عثمان خواجہ کا ماننا ہے کہ وہ ملک کے ٹاپ چھ کھلاڑیوں میں شامل ہیں اور سینٹرل کنٹریکٹ نہ ملنے کے باوجود بھی اسکواڈ میں جگہ بنا سکتے ہیں۔
عثمان خواجہ کا کہنا تھا کہ میں یہ بات بغیر کسی تکبر کے کر رہا ہوں کہ میں اب بھی ٹاپ کے چھ بیٹسمینوں میں سے ایک ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ کی عمر 38-37 سال ہو رہی ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ کرکٹ کیریئر ختم ہو رہا۔
عثمان خواجہ کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اسپن بولرز کے خلاف اچھا نہیں کھلتے لیکن وہ کرکٹ ماہرین کی اس بات سے متفق نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں بھی اسپن بولرز کے خلاف اتنا ہی اچھا کھیلتا ہوں جتنا کوئی کوئی اور کھیلتا ہے لیکن اسٹیو اسمتھ کی بات ہی الگ ہے۔
عثمان خواجہ 44 ٹیسٹ، 44 ون ڈے اور 9 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں آسٹریلیا کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ انہوں نے آسٹریلیا کی جانب سے آخری انٹرنیشنل میچ انگلینڈ کے خلاف لیڈز کے میدان پر کھیلا جو کہ ایشیز سیریز کا حصہ تھا۔