Recently Finished
Live Cricket
Upcoming Matches
View All Matches

تعارف: اسامہ میر ابھرتے ہوئے نوجوان لیگ اسپنر ہیں جنہوں نے اپنے فرسٹ کلاس کیریئر کا آغاز کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز (کے آر ایل) کی طرف سے کیا۔ اس کے بعد انہوں نے سوئی سدرن گیس کارپوریشن (ایس ایس جی سی) کی ٹیم میں شمولیت اختیار کی۔ وہ جن ٹیموں کی نمائندگی کر چکے ہیں ان میں سیالکوٹ اسٹالینز اور پنجاب بھی شامل ہیں۔ ڈومیسٹک کرکٹ کے موجودہ سیٹ اپ میں انہیں ناردرن کی سیکنڈ الیون ٹیم میں جگہ ملی۔ اسامہ میر پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے افتتاحی ایڈیشن سے اب تک کراچی کنگز کا حصہ ہیں۔

کرکٹ میں دلچسپی کیسے پیدا ہوئی اور گھر والوں کی طرف سے کتنی سپورٹ ملی؟
شاہد آفریدی اور شعیب ملک کو دیکھ کر کرکٹ کا شوق پیدا ہوا، چھوٹی عمر میں ہی بھائی کے ساتھ کرکٹ کھیلنا شروع کر دی تھی۔ گھر والوں کی طرف سے شروع میں زیادہ سپورٹ نہیں ملی، میٹرک تک گلی محلوں میں کرکٹ کھیلتا رہا، پہلی بار جب ٹرائلز پر گیا تو اس کے بعد میرے گھر والوں کو پتا لگا، کرکٹ میری ضد تھی اس لیے گھر والوں نے سپورٹ کرنا شروع کر دیا اور اب ان کی مکمل سپورٹ میرے ساتھ ہے۔

کس شخص نے کرکٹ کے میدانوں تک پہنچنے میں آپ کی سب سے زیادہ مدد کی؟
پہلی مرتبہ جب ٹرائلز میں گیا تو زاہد فضل سلیکٹرز کی حیثیت سے وہاں موجود تھے جو کہ ورلڈکپ 1992 کی فاتح ٹیم کا حصہ تھے۔ زاہد فضل نے میری صلاحیتوں سے متاثر ہو کر مجھے عامر وسیم کرکٹ اکیڈمی بھیجا۔ عامر وسیم (مرحوم) میرے پہلے کوچ تھے، وہ مجھ پر جتنی محنت کر سکتے تھے انہوں نے کی اور میں آج جو بھی ہوں یہ سب ان کی محنت کا نتیجہ ہے۔ میں یہی کہوں گا کہ زاہد فضل نے مجھے راستہ دکھایا اور میرے یہاں تک پہنچنے میں سب سے اہم کردار عامر وسیم (مرحوم) کا ہے۔

پہلا فرسٹ کلاس میچ کس ٹیم کے خلاف کھیلا؟ اور کیا جذبات تھے؟
میں نے اپنا پہلا فرسٹ کلاس میچ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز (کے آر ایل) کی طرف سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے خلاف کھیلا اور میں نے پہلی وکٹ ٹیسٹ کرکٹر فیصل اقبال کی حاصل کی۔ فرسٹ کلاس ڈیبیو سے پہلے ایک میچ میں کپتان سعید انور جونیئر کی جگہ فیلڈنگ کرنے گیا اور میں نے ایک اچھا کیچ پکڑا جس کے بعد میچ میں ہماری واپسی ہوئی تھی، میچ کے فوراََ بعد ٹیم کے کوچ علی نقوی نے کہہ دیا تھا کہ تم اگلا میچ کھیلو گے۔
بطور کرکٹر فرسٹ کلاس کرکٹ ہمارے لیے بہت معنی رکھتی ہے، جب فرسٹ کلاس کرکٹ میں ڈیبیو کیا تو بہت اچھا محسوس کر رہا تھا۔ کے آر ایل کی طرف سے دو میچز کھیلنے کے بعد میں نے سوئی سدرن گیس کارپوریشن (ایس ایس جی سی) کو جوائن کر لیا تھا۔

پاکستان سپر لیگ کے لیے کراچی کنگز میں منتخب ہونے کی خبر کس نے دی اور کیسا لگا تھا؟
پی ایس ایل پاکستان کا برانڈ ہے، پہلے ہی ایڈیشن میں سلیکشن ہونے پر بہت خوش ہوا تھا۔ افتتاحی ایڈیشن کا جب ڈرافٹ ہو رہا تھا تو اس وقت میں نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں قائد اعظم ٹرافی کا میچ کھیل رہا تھا، اس میچ میں بہت اچھا ماحول بنا ہوا تھا کیونکہ میچ کے دوران ہر اس کھلاڑی کو مبارکباد دی جا رہی تھی جس کا انتخاب ہو جاتا تھا۔
میرے دوست ضیاء الحق نے مجھے بتایا کہ تمہیں منتخب کر لیا گیا ہے اور مجھے لگا کہ یہ مذاق کر رہا ہے۔ جب کامی بھائی (کامران اکمل) نے مبارکباد دی تو پھر مجھے یقین آیا، میں نے ٹی وی دیکھا اور اس کے بعد اپنا فون چیک کرنے لگا تو پیغامات کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ اس وقت کتنی خوشی ہوئی تھی اس کو لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا۔

کراچی کنگز کا مسلسل حصہ ہیں لیکن پچھلے تین ایڈیشنز میں صرف پانچ میچوں میں موقع ملا، اس کی کیا وجہ ہے؟
پہلے دو ایڈیشنز میں میری پرفارمنس بہت اچھی رہی تھی، پھر کھلاڑیوں کے تبادلے کے نتیجے میں شاہد آفریدی کراچی کنگز کا حصہ بنے جس وجہ سے میں زیادہ میچز نہیں کھیل سکا کیونکہ کپتان عماد وسیم بھی پلئینگ الیون کا حصہ ہوتے تھے۔ چوتھے ایڈیشن میں پرامید تھا کہ مجھے میچز ملیں گے لیکن پھر عمر خان بطور ایمرجنگ پلیئر کھیلے اور انہوں نے بہت اچھی کارکردگی دکھائی۔ پی ایس ایل فائیو میں لمبے عرصے بعد تین میچز کھیلا جس میں کُھل کر صلاحیتوں کا مظاہرہ نہیں کر سکا۔

بنگلہ دیش پریمیر لیگ، کیریبین پریمیر لیگ اور گلوبل ٹی ٹوئنٹی لیگ کھیلنے کا تجربہ کیسا رہا؟
بطور پروفیشنل کرکٹر جب کسی بھی لیگ میں کھیلتے ہیں تو باڈی لینگوئج مختلف ہوتی ہے، ان لیگز میں کھیلنے کا تجربہ بہت اچھا رہا اور میں نے وہیں سے سیکھا کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں کیسے بولنگ کروانی ہے کیونکہ مختلف لیگز میں مختلف کھلاڑیوں کے خلاف کھیلنا پڑتا ہے۔ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ہوشیاری سے بولنگ کرنا پڑتی ہے۔
گلوبل ٹی ٹوئنٹی لیگ میں اسٹیو اسمتھ، کیرون پولارڈ، جانسن چارلس، ڈیرن سیمی، اینٹن ڈیوسچ، کامران اکمل اور کیسریک ولیمز کے ہمراہ کھیلا، ایسے کھلاڑیوں کے ساتھ جب کھیلتے ہیں تو بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ بنگلہ دیش پریمیر لیگ میں ڈیرن سیمی کی قیادت میں صرف تین میچز کھیلا اور اچھا تجربہ رہا۔ کیریبین پریمیر لیگ میں بھی کھیل کر بہت مزہ آیا کیونکہ مختلف گراؤنڈز میں مختلف ماحول ملتا ہے۔

ٹی ٹوئنٹی لیگز میں کھیلتے ہوئے کس کھلاڑی نے آپ کی سب سے زیادہ رہنمائی کی؟
سب سے پہلے میں سیالکوٹ اسٹالینز کی طرف سے کھیلا اور شعیب بھائی (شعیب ملک) نے مجھے بہت اعتماد دیا تھا۔ اس کے بعد پی ایس ایل کے پہلے دو ایڈیشنز کراچی کنگز کی طرف سے ان کی قیادت میں کھیلا اور وہ ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ اپنی صلاحیتوں کا کُھل کر اظہار کرو۔ شعیب بھائی کے ساتھ بہت اچھی بنتی تھی جس وجہ سے مجھے ابتدائی کیریئر میں بہت مدد ملی۔ ڈیرن سیمی اور کارلوس بریتھویٹ کے ساتھ کھیلنے کا بھی بہت مزہ آیا اور ان سے بہت کچھ سیکھا۔

کس کھلاڑی کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا پسند کرتے ہیں اور کیوں؟
مجھے شعیب ملک کے ساتھ وقت گزارنا بہت اچھا لگتا ہے کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ ان سے کچھ سیکھوں۔ شاہد آفریدی جب کراچی کنگز میں تھے تو ان کے ساتھ وقت گزارنا پسند کرتا تھا لیکن زیادہ وقت نہیں ملا۔ دوسری پی ایس ایل میں میری کوشش تھی کہ کمار سنگاکارا، مہیلا جےوردھنے، کرس گیل، کیرون پولارڈ اور روی بوپارہ کے ساتھ وقت گزار کر کچھ نہ کچھ سیکھوں۔ پی ایس ایل فائیو میں چیڈوک والٹن کے ساتھ بہت اچھا وقت گزرا، ہم پاکستانی اور کیریبین کلچر کے بارے میں گفتگو کرتے رہتے تھے۔

بڑے بڑے اسٹارز کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کر چکے ہیں، پاکستان ٹیم کے ڈریسنگ روم تک پہنچنے کی خواہش تو ہوتی ہو گی؟
ہر کرکٹر کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے ملک کی نمائندگی کرے، اللہ کا شکر ہے ٹی ٹوئنٹی لیگز کھیلنے کو مل جاتی ہیں لیکن آپ اس وقت تک آپ مطمئن نہیں ہوتے جب تک ملک کی جانب سے کرکٹ نہ کھیل لیں۔ جب قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہیں تو سوچ مختلف ہو جاتی ہے اور رویے میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ میں محنت کر رہا ہوں اور انشاء اللہ اپنے ملک کی جانب سے بھی کھیلوں گا۔

آپ کو کیا لگتا ہے کہ قومی ٹیم میں آپ کو موقع کیوں نہیں دیا جا رہا ہے؟
میرے خیال میں اس کا انحصار سلیکٹرز پر ہے اور شاید میری پرفارمنس اس طرح کی نہیں ہے کہ مجھے قومی ٹیم میں منتخب کیا جائے۔ کوشش کروں گا کہ مستقبل میں جو بھی ٹورنامنٹس ہوں ان میں اچھی کارکردگی دکھا کر سلیکٹرز کو سلیکشن کے لیے قائل کروں اور ہمیشہ اچھے کی امید رکھنی چاہیے۔

اپنے مقاصد میں کامیاب ہونے کے لیے آپ کیا خاص کر رہے ہیں؟
میں اپنی پرفارمنس میں بہتری اور تسلسل لانے کے لیے محنت کر رہا ہوں، فٹنس کا خاص خیال رکھنا ہے اور اپنی اسکِلز میں مزید نکھار لانا ہے۔ مجھے ایک اچھا اور ہوشیار کھلاڑی بننے کے لیے یہ حربے سیکھنے ہوں گے۔ ٹیلنٹ تو سب میں ہوتا ہے اور ٹیلنٹ میرے بھی ہے لیکن میں نے اس کا اظہار کس طرح کرنا ہے اس کا انحصار مجھ پر ہے۔
میری خواہش ہے کہ میں ایک اچھا آل راؤنڈر بنوں، میں اپنی بیٹنگ میں بہت بہتری لے کر آیا ہوں لیکن مجھے زیادہ مواقع نہیں دیئے گئے۔ میں پرامید ہوں کہ اگلے ٹورنامنٹس میں بیٹنگ کرنے کا موقع بھی ملے گا۔ پاکستان ٹیم کو نمبر چھ یا سات پر ایک پاور ہٹنگ آل راؤنڈر کی ضرورت ہے اور مجھے لگتا ہے کہ میں وہ خلا پُر کر سکتا ہوں۔

دیگر نوجوان کھلاڑیوں کو کیا پیغام دیناچاہیں گے جو آپ کی طرح قومی ٹیم میں شامل ہونے کے منتظر ہیں۔
میرا سب نوجوان کھلاڑیوں کو یہی پیغام ہے کہ محنت کرو، مایوس نہیں ہونا۔ محنت کرتے رہو، اپنے ٹائم کا انتظار کرو اور موقع ملنے پر اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرو۔ میری نیک خواہشات تمام کرکٹرز کے ساتھ ہیں۔