Recently Finished
Live Cricket
Upcoming Matches
No live scores available
View All Matches

پاکستان کرکٹ بورڈ نے عمر اکمل کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ ‏چیئرمین ڈسپلنری پینل جسٹس ریٹائرڈ فضل میراں چوہان نے جمعرات کو عمر اکمل کیس کا تفصیلی فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو جمع کروایا۔
جسٹس ریٹائرڈ فضل میراں چوہان نے پی سی بی اینٹی کرپشن کوڈ میں شامل دونوں چارجز کی خلاف ورزی کرنے پر عمر اکمل پر تین سال کی پابندی عائد کی ہے جو 20 فروری 2020 سے نافذ العمل ہو گی۔
نااہلی کی دونوں مدتوں پر ایک ساتھ عمل ہو گا۔ عمر اکمل 19 فروری 2023 کو دوبارہ کرکٹ کھیلنے کے اہل ہوں گے۔ تفصیلی فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ عمر اکمل کو پی ایس ایل سے قبل دوست کی پارٹی میں ایک شخص نے فکسنگ کی آفر کی تھی۔
عمر اکمل نے دانستہ طور پر دعوت نامہ دینے والے شخص کا نام نہیں بتایا۔ قومی کرکٹر پی سی بی کے ضابطہ اخلاق کی خلاف وزری کے مرتکب قرار پائے۔ عمر اکمل آفر سے متعلق مکمل بات بتانے سے اجتناب کرتے رہے۔
سماعت کے دوران عمر اکمل نے ویڈیو انٹرویو چلانے کا کہا، جب انٹرویو شروع ہوا تو انہوں نے کہا کہ انٹرویو بند کر دیں، اس میں میری فیملی سے متعلق بھی کچھ باتیں ہیں۔
دوسری مرتبہ عمر اکمل کو دوست نے دعوت پر بلایا اور اس دوست نے انھیں فکسنگ کی آفر کی۔ فکسنگ کے بدلے عمر اکمل کی پریشانی ختم کرنے کی بات بھی ہوئی۔ بیٹسمین نے دوست کی آفر قبول نہیں کی اور پارٹی چھوڑ کر چلے گئے۔
عمر اکمل نے دونوں مرتبہ پی سی بی کے سیکیورٹی اینڈ ویجلنس ڈیپارٹمنٹ کو آگاہ نہیں کیا جس وجہ سے ان پر سخت پابندی عائد کی گئی۔