Recently Finished
Live Cricket
Upcoming Matches
View All Matches

ماضی میں کئی کرکٹرز پر بال ٹیمپرنگ کے الزامات لگے اور کچھ کھلاڑیوں کو اس وجہ سے سزا کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ بال ٹیمپرنگ میں سزا پانے والے کھلاڑیوں کی فہرست پر نظر ڈالیں تو وقار یونس پہلے نمبر پر موجود ہیں۔
وقار یونس کو سری لنکا کیخلاف 2000 میں بال ٹیمپرنگ کرنے پر پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔ وقار یونس کو ایک میچ اور میچ فیس کا 50 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا اور ان کے ساتھ اظہر محمود کی میچ فیس میں بھی 30 فیصد کٹوتی ہوئی۔
نیوزی لینڈ کیخلاف گیند سے چھیڑ چھاڑ کرنے پر 2003 میں شعیب اختر پر میچ فیس کا 75 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ ان پر دو میچوں کی پابندی بھی لگی۔
پاکستانی ٹیم پر 2006 میں دوبارہ بال ٹیمپرنگ کرنے کا الزام لگا۔ آئی سی سی نے اس معاملے کی تحقیقات کیں اور انکوائری کے بعد فیصلہ پاکستان کے حق میں آیا اور میچ ڈرا قرار دیا گیا۔ اس میچ کا نتیجہ 2009 میں پھر تبدیل ہوا اور آئی سی سی نے انگلینڈ کو فاتح قرار دیا۔
شاہد آفریدی کو 2010 میں آسٹریلیا کے خلاف ایک میچ میں گیند چباتے ہوئے کیمرے میں دیکھا گیا اور ان پر دو ٹی ٹوئنٹی میچوں کی پابندی لگی۔
دیگر ٹیموں کے کھلاڑیوں پر نظر ڈالیں تو 2001 میں بال ٹیمپرنگ کرنے کی وجہ سے سچن ٹنڈولکر پر ایک ٹیسٹ کی پابندی عائد کی گئی۔ پابندی کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ نے ساؤتھ افریقہ کا دورہ ختم کرنے کی دھمکی دی جس کے بعد پابندی ہٹا دی گئی۔
راہول ڈریوڈ کو گیند سے چھیڑ چھاڑ کرنے پر 2004 میں میچ فیس کا 50 فیصد جرمانہ کیا گیا۔ پاکستان کیخلاف 2013 میں فاف ڈوپلیسی پر بال ٹیمپرنگ کے باعث 50 فیصد میچ فیس کا جرمانہ لگا۔
بال ٹیمپرنگ کا آخری تنازع 2018 میں ساؤتھ افریقہ میں پیش آیا جب اسٹیو اسمتھ، ڈیوڈ وارنر اور کیمرون بینکرافٹ بال ٹیمپرنگ کرنے پر مجرم قرار پائے۔ اسمتھ اور وارنر پر ایک، ایک سال جبکہ بینکرافٹ پر 9 ماہ کی پابندی لگائی گئی تھی۔