Recently Finished
Live Cricket
Upcoming Matches
View All Matches

تعارف:سلمان بٹ نے 2003 میں بنگلہ دیش کے خلاف کھیلتے ہوئے پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ ڈیبیو کیا جو کہ ان کا پہلا انٹرنیشنل میچ بھی تھا۔ انہوں نے اپنا پہلا ون ڈے میچ 2004 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلا جبکہ ٹی ٹوئنٹی ڈیبیو 2007 میں بنگلہ دیش کے خلاف کیا۔ سلمان بٹ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2009 کی فاتح ٹیم کا حصہ تھے۔ سلمان بٹ پاکستان کی طرف سے 78 ون ڈے، 33 ٹیسٹ اور 24 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیل چکے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی طرف سے آخری انٹرنیشنل میچ 2010 میں انگلینڈ کے خلاف کھیلا تھا۔ سلمان بٹ انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی طرف سے کھیل چکے ہیں۔ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں وہ لاہور قلندرز کی ٹیم کا حصہ ہیں اور ڈومیسٹک کرکٹ میں سینٹرل پنجاب کی جانب سے کھیل رہے ہیں۔

آپ نے کس کھلاڑی کو دیکھ کر کرکٹ کھیلنا شروع کی؟ اور کبھی اس کھلاڑی سے سیکھنے کا موقع ملا؟
میں نے کرکٹ کے آغاز میں سعید انور اور عامر سہیل کو کھیلتے ہوئے دیکھا، بطور اوپننگ بیٹسمین ان دونوں کھلاڑیوں کی وجہ سے مجھے اچھا کھیل پیش کرنا کا حوصلہ ملتا تھا۔ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے سعید انور اور عامر سہیل سے سیکھنے کا موقع بھی ملا۔

ہر اچھے کرکٹر کے پیچھے ایک کوچ کا ہاتھ ہوتا ہے، آپ نے کس کوچ سے سب سے زیادہ سیکھا؟
مختلف سطح کی کرکٹ پر مختلف کوچز کے ساتھ کام کیا، سکول میں مجید صاحب کوچ تھے جو ابھی بھی نیشنل اکیڈمی میں ہیں۔ انڈر-16 میں اختر بٹ صاحب کے ساتھ بہت کام کیا اور ان دونوں کے ساتھ آج بھی رابطے میں ہوں۔ جب اکیڈمیز میں آئے تو محتشم رشید، ہارون رشید، اور مدثر نذیر سمیت بہت سارے کوچز کے ساتھ کام کیا۔
انٹرنیشنل کرکٹ میں باب وولمر اور جیف لاسن کے ساتھ بہت وقت گزرا ہے، دونوں بہت زبردست کوچز تھے۔ ماضی قریب میں گرانٹ فلاور کے ساتھ کافی پریکٹس سیشنز کیے جو کہ بہت اچھے رہے اور ان سے بہت سیکھنے کو ملا۔ انٹرنیشنل کرکٹ میں باب وولمر اور نچلی سطح کی کرکٹ میں مجید صاحب اور اختر بٹ صاحب سے زیادہ سیکھا۔

پاکستان کو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2007 کے فائنل میں جب بھارت کے ہاتھوں شکست ہوئی تو آپ بھی ٹیم میں شامل تھے۔ مصباح الحق جب آؤٹ ہونے کے بعد ڈریسنگ روم میں واپس آئے تو کیا ماحول تھا؟
وہ دل ٹوٹ جانے والا لمحہ تھا کیونکہ سب توقع کر رہے تھے کہ سارا مشکل کام ہو چکا ہے اور چار گیندوں پر صرف چھ رنز چاہیے تھے۔ بھارتی بولر جوگندر شرما بھی کافی دباؤ میں تھے لیکن بدقسمتی سے وہ شاٹ صحیح طرح نہیں لگی۔ مصباح الحق خود بھی بہت افسردہ تھے اور ٹیم بھی مایوس تھی۔ جیت کے قریب جا کر ہارے اس لیے سب جذباتی تھے لیکن ہار جیت کھیل کا حصہ ہے۔

آپ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2009 کی فاتح ٹیم کا حصہ رہ چکے ہیں۔ اس یادگار فتح کے حوالے سے بتائیں کیونکہ پاکستان اگر مگر کی صورتحال کے بعد ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچا تھا۔
ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2009 میں ہم اتار چڑھاؤ کی صورتحال سے دوچار رہے، پہلا میچ انگلینڈ سے ہارے اور پھر ہمیں ہالینڈ کو اچھے مارجن سے ہرانا تھا۔ ہالینڈ کے خلاف ٹاس جیت کر ہم نے پہلے بیٹنگ کی اور بڑے مارجن سے فتح حاصل کی۔ اس کے بعد ٹیم نے اچھا مومینٹم پکڑا اور میرا خیال ہے کہ مومینٹم ہی ٹیم کو لے کر چلتا ہے۔ شروع میں ہم پریکٹس میچز بھی ہارے تھے لیکن صحیح وقت پر ٹیم ٹریک پر آئی اور ہم نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا ٹائٹل جیتا۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2010 کا سیمی فائنل شاید سعید اجمل، پاکستان ٹیم اور پوری قوم کبھی بھول نہ پائیں۔ آپ نے بھی وہ میچ کھیلا تھا، آپ کے خیال میں آخری اوور میں کیا غلطی ہوئی؟
ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2010 کے سیمی فائنل میں عبدالرزاق کا اوور بھی پڑا تھا اس لیے میرا خیال ہے کہ اوور دیتے ہوئے غلط فیصلہ کیا گیا۔ اس دن جس طرف کی ہوا تھا وہ مائیکل ہسی کی لیگ سائیڈ تھی، اس سائیڈ پر وہ کھیلتا بھی اچھا تھا اور جب زیادہ رنز اسکور کرنے ہوں تو ہر کھلاڑی کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ٹانگ کی طرف کھیلے۔
میرے خیال میں بطور کپتان اسپنر کو آخر کے اوورز نہیں دینے چاہیئں اور اس وقت ہماری غلطی یہی تھی کہ ہم نے اسپنر کو آخری اوور دیا۔ مائیکل ہسی نے ہماری غلطی سے فائدہ اٹھایا اور سعید اجمل کو ساری شاٹس بھی اس طرف ماریں جس طرف ہوا کا رخ تھا، وہاں عبدالرزاق کو بھی اوور دیا جا سکتا تھا۔

آپ انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ آئی پی ایل کھیلنے کا تجربہ کیسا رہا؟
انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) اپنے طرز کی پہلی لیگ تھی، نوجوان کرکٹرز کے لیے بہترین موقع تھا کہ وہ بڑے کرکٹرز کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کریں، ان کی تیاری اور کھیل کو نزدیک سے دیکھ کر کچھ سیکھیں۔ میرے سمیت سارے انٹرنیشنل پلیئرز کے لیے آئی پی ایل میں کھیلنے کا تجربہ بہت اچھا رہا اور وہاں سے کچھ سیکھنے کو بھی ملا۔

انٹرنیشنل کرکٹ میں آپ کی 11 سنچریاں ہیں جن میں سے پانچ سنچریاں بھارت کے خلاف اسکور کیں۔ روایتی حریف کے خلاف اتنی شاندار پرفارمنس کی کیا وجہ ہے؟
پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے میچز بہت ہائی پریشر ہوتے ہیں، دونوں ٹیموں کی طرف سے جو بھی کھلاڑی پرفارم کر دے تو وہ بہت خوش قسمت ہوتا ہے کیونکہ ان ہائی پریشر میچوں میں نام جلدی بتنا ہے۔ میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ پاک-بھارت میچز میں میری پرفارمنس اچھی رہی جس پر اللہ کا شکرگزار ہوں۔

کیا آپ پاکستان اور بھارت کے درمیان سیریز کے انعقاد کے حق میں ہیں؟ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے رویے پر آپ کی کیا رائے ہے؟
میرے خیال میں کرکٹ تو ہونی چاہیے، پاکستان اور بھارت کے میچوں میں اسٹارز بنتے ہیں۔ دنیا بھر میں کروڑوں لوگ پاک-بھارت میچز دیکھتے ہیں اور میرا نہیں خیال کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ کسی اور گیم کو فالو کرتے ہوں گے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ سیریز پر بھارتی کرکٹ بورڈ کا جو مؤقف ہے وہ سمجھ سے باہر ہے، کبھی وہ معاملہ حکومت پر ڈال دیتے ہیں تو کبھی کسی پر اس لیے پاکستان کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
ہم کھیلنے کے خواہشمند ہیں لیکن ہمیں کھیلنے کی خواہش رکھنے اور کھیلنے کی کوشش کرنے میں فرق کو سمجھنا چاہیے۔ بھارت نے ایشو بنایا ہوا ہے ورنہ ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ نہ کھیلی جائے۔

کیا آپ کی بڑھتی عمر قومی ٹیم میں واپسی کے آڑے آ رہی ہے؟
عمر کی بات نہیں ہے، پرفارمنس اور فٹنس کی بات ہے۔ اگر آپ فٹ ہیں، ٹیم کے لیے پرفارم کر سکتے ہیں تو پھر عمر صرف ایک نمبر ہے۔ اگر آپ جوان ہیں اور فٹ نہیں ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کھیلنے کے قابل نہیں ہیں اس لیے کرکٹ کا عمر سے نہیں بلکہ فٹنس اور پرفارمنس سے تعلق ہے۔

مصباح الحق کو چیف سلیکٹر اور ہیڈکوچ کی دوہری ذمہ داری دی گئی ہے۔ کیا نیوزی لینڈ ماڈل پاکستان میں کامیاب ہو سکتا ہے؟
بہت سارے ممالک خود سے سوچتے ہیں اور تجربے کرتے ہیں، اپنی پوزیشن اور ماحول کو دیکھ کر فیصلے کرتے ہیں۔ نیوزی لینڈ کم آبادی والا ملک ہے اس لیے یہ سیٹ اپ ان کے لیے ٹھیک ہے، وہ تجربے کرتے ہیں اور اگر انہیں مطلوبہ نتائج نہ ملیں تو وہ اس میں تبدیلی لے آتے ہیں۔
ہمیں اپنے ملک کی آبادی کو دیکھنا چاہیے، کتنے لوگ کرکٹ کھیلتے ہیں اور بہت سارے کرکٹرز ملک کی نمائندگی کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ساری چیزوں کو مدنظر رکھ کر ماڈل بنایا جاتا ہے، دوسروں کی چیزوں سے سیکھنا چاہیے لیکن آپ کسی کو مکمل طور پر فالو نہیں کر سکتے۔

بابر اعظم کو ٹی ٹوئنٹی، ون ڈے اور اظہر علی کو ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی دے کر سرفراز احمد کے ساتھ زیادتی تو نہیں کی گئی؟
سرفراز احمد کو اس کی پرفارمنس کی وجہ سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور کیریئر کو آگے بڑھانے کے لیے پرفارمنس بہت اہمیت رکھتی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے میں اس کی بیٹنگ اور وکٹ کیپنگ میں گراؤ آیا، جب وہ اپنی فارم بحال کر لے گا تو پاکستان کی طرف سے دوبارہ کھیل سکتا ہے۔
اگر کسی نے ایک دو اچھے سیزن کھیل لیے ہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ ہمیشہ کھیلے گا۔ قومی ٹیم کی طرف سے کھیلنا ہے تو پرفارم کرنا پڑے گا یا پھر اس صورت میں کھیل سکتے ہیں کہ آپ کی موجودگی سے ٹیم کو فائدہ ہو اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ کوئی زیادتی والی بات نہیں ہے۔

آپ کا مستقبل کا کیا پلان ہے؟ اور مزید کتنا عرصہ کرکٹ کھیل سکتے ہیں؟
میرا یہی پلان ہے کہ اچھی کرکٹ کھیلوں، پرفارمنس اور میرٹ پر جب تک کھیل سکتا ہوں اس وقت تک کرکٹ کھیلتا رہوں گا۔